Gham-e-duniya se gar paayi bhi fursat sar uthaane ki
19th Century Mirza Ghalib Urduغم_دنیا سے گر پائی بھی فرصت سر اٹھانے کی فلک کا دیکھنا تقریب تیرے یاد آنے کی
کھلے_گا کس طرح مضموں مرے مکتوب کا یارب قسم کھائی ہے اس کافر نے کاغذ کے جلانے کی
لپٹنا پرنیاں میں شعلۂ_آتش کا پنہاں ہے ولے مشکل ہے حکمت دل میں سوز_غم چھپانے کی
انہیں منظور اپنے زخمیوں کا دیکھ آنا تھا اٹھے تھے سیر_گل کو دیکھنا شوخی بہانے کی
ہماری سادگی تھی التفات_ناز پر مرنا ترا آنا نہ تھا ظالم مگر تمہید جانے کی
لکد کوب_حوادث کا تحمل کر نہیں سکتی مری طاقت کہ ضامن تھی بتوں کی ناز اٹھانے کی
کہوں کیا خوبی_اوضاع_ابنائے_زماں غالبؔ بدی کی اس نے جس سے ہم نے کی تھی بارہا نیکی