zulmat-kade mein mere shab-e-gham ka josh hai
19th Century Mirza Ghalib Urduظلمت_کدے میں میرے شب_غم کا جوش ہے اک شمع ہے دلیل_سحر سو خموش ہے
نے مژدۂ_وصال نہ نظارہ_جمال مدت ہوئی کہ آشتی_چشم_و_گوش ہے
مے نے کیا ہے حسن_خود_آرا کو بے_حجاب اے شوق! ہاں اجازت_تسلیم_ہوش ہے
گوہر کو عقد_گردن_خوباں میں دیکھنا کیا اوج پر ستارۂ_گوہر_فروش ہے
دیدار بادہ حوصلہ ساقی نگاہ مست بزم_خیال مے_کدۂ_بے_خروش ہے
اے تازہ واردان_بساط_ہوائے_دل زنہار اگر تمہیں ہوس_نائے_و_نوش ہے
دیکھو مجھے جو دیدۂ_عبرت_نگاہ ہو میری سنو جو گوش_نصیحت_نیوش ہے
ساقی_بہ_جلوہ دشمن_ایمان_و_آگہی مطرب بہ_نغمہ رہزن_تمکین_و_ہوش ہے
یا شب کو دیکھتے تھے کہ ہر گوشۂ_بساط دامان_باغبان و کف_گل_فروش ہے
لطف_خرام_ساقی و ذوق_صدائے_چنگ یہ جنت_نگاہ وہ فردوس_گوش ہے
یا صبح_دم جو دیکھیے آ کر تو بزم میں نے وہ سرور و سوز نہ جوش_و_خروش ہے
داغ_فراق_صحبت_شب کی جلی ہوئی اک شمع رہ گئی ہے سو وہ بھی خموش ہے
آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں غالبؔ صریر_خامہ نوائے_سروش ہے