vus'at-e-sa'i-e-karam dekh ke sar-ta-sar-e-khaak
19th Century Mirza Ghalib Urduوسعت_سعی_کرم دیکھ کہ سر_تا_سر_خاک گزرے ہے آبلہ_پا ابر_گہربار ہنوز
یک_قلم کاغذ_آتش_زدہ ہے صفحۂ_دشت نقش_پا میں ہے تب_گرمی_رفتار ہنوز
داغ_اطفال ہے دیوانہ بہ_کہسار ہنوز خلوت_سنگ میں ہے نالہ طلبگار ہنوز
خانہ ہے سیل سے خو_کردۂ_دیدار ہنوز دوربیں در_زدہ ہے رخنۂ_دیوار ہنوز
آئی یک_عمر سے معذور_تماشہ نرگس چشم_شبنم میں نہ ٹوٹا مژۂ_خار ہنوز
کیوں ہوا تھا طرف_آبلۂ_پا یا_رب جادہ ہے وا_شدن_پیچش_طومار ہنوز
ہوں خموشیٔ_چمن حسرت_دیدار اسدؔ مژہ ہے شانہ_کش_طرۂ_گفتار ہنوز