maane-e-dasht-nawardi koi tadbeer nahin
19th Century Mirza Ghalib Urduمانع_دشت_نوردی کوئی تدبیر نہیں ایک چکر ہے مرے پانو میں زنجیر نہیں
شوق اس دشت میں دوڑائے ہے مجھ کو کہ جہاں جادہ غیر از نگہ_دیدۂ_تصویر نہیں
حسرت_لذت_آزار رہی جاتی ہے جادۂ_راہ_وفا جز دم_شمشیر نہیں
رنج_نومیدی_جاوید گوارا رہیو خوش ہوں گر نالہ_زبونی کش_تاثیر نہیں
سر کھجاتا ہے جہاں زخم_سر اچھا ہو جائے لذت_سنگ بہ_اندازۂ_تقریر نہیں
جب کرم رخصت_بیباکی_و_گستاخی دے کوئی تقصیر بجز خجلت_تقصیر نہیں
غالبؔ اپنا یہ عقیدہ ہے بقول_ناسخؔ آپ بے_بہرہ ہے جو معتقد_میرؔ نہیں
میرؔ کے شعر کا احوال کہوں کیا غالبؔ جس کا دیوان کم_از_گلشن_کشمیر نہیں
آئینہ دام کو پردے میں چھپاتا ہے عبث کہ پری_زاد_نظر قابل_تسخیر نہیں
مثل_گل زخم ہے میرا بھی سناں سے توام تیرا ترکش ہی کچھ آبستنیٔ_تیر نہیں