Zikr us pari-vash ka aur phir bayaan apna
19th Century Mirza Ghalib Urduذکر اس پری_وش کا اور پھر بیاں اپنا بن گیا رقیب آخر تھا جو رازداں اپنا
مے وہ کیوں بہت پیتے بزم_غیر میں یا رب آج ہی ہوا منظور ان کو امتحاں اپنا
منظر اک بلندی پر اور ہم بنا سکتے عرش سے ادھر ہوتا کاش کے مکاں اپنا
دے وہ جس قدر ذلت ہم ہنسی میں ٹالیں_گے بارے آشنا نکلا ان کا پاسباں اپنا
درد_دل لکھوں کب تک جاؤں ان کو دکھلا دوں انگلیاں فگار اپنی خامہ خونچکاں اپنا
گھستے گھستے مٹ جاتا آپ نے عبث بدلا ننگ_سجدہ سے میرے سنگ_آستاں اپنا
تا کرے نہ غمازی کر لیا ہے دشمن کو دوست کی شکایت میں ہم نے ہم_زباں اپنا
ہم کہاں کے دانا تھے کس ہنر میں یکتا تھے بے_سبب ہوا غالبؔ دشمن آسماں اپنا