Zikr mera ba-badi bhi usey manzoor nahin
19th Century Mirza Ghalib Urduذکر میرا بہ_بدی بھی اسے منظور نہیں غیر کی بات بگڑ جائے تو کچھ دور نہیں
وعدۂ_سیر_گلستاں ہے خوشا طالع_شوق مژدۂ_قتل مقدر ہے جو مذکور نہیں
شاہد_ہستی_مطلق کی کمر ہے عالم لوگ کہتے ہیں کہ ہے پر ہمیں منظور نہیں
قطرہ اپنا بھی حقیقت میں ہے دریا لیکن ہم کو تقلید_تنک_ظرفی_منصور نہیں
حسرت اے ذوق_خرابی کہ وہ طاقت نہ رہی عشق_پر_عربدہ کی گوں تن_رنجور نہیں
میں جو کہتا ہوں کہ ہم لیں_گے قیامت میں تمہیں کس رعونت سے وہ کہتے ہیں کہ ہم حور نہیں
ظلم کر ظلم اگر لطف دریغ آتا ہو تو تغافل میں کسی رنگ سے معذور نہیں
صاف دردی_کش_پیمانۂ_جم ہیں ہم لوگ وائے وہ بادہ کہ افشردۂ_انگور نہیں
ہوں ظہوری کے مقابل میں خفائی غالبؔ میرے دعوے پہ یہ حجت ہے کہ مشہور نہیں