Rukh-e-nigaar se hai soz-e-jaavedaani-e-shama
19th Century Mirza Ghalib Urduرخ_نگار سے ہے سوز_جاودانی_شمع ہوئی ہے آتش_گل آب_زندگانی_شمع
زبان_اہل_زباں میں ہے مرگ_خاموشی یہ بات بزم میں روشن ہوئی زبانی_شمع
کرے ہے صرف بہ_ایماۓ_شعلہ قصہ تمام بہ_طرز_اہل_فنا ہے فسانہ_خوانی_شمع
غم اس کو حسرت_پروانہ کا ہے اے شعلے ترے لرزنے سے ظاہر ہے نا_توانی_شمع
ترے خیال سے روح اہتزاز کرتی ہے بہ_جلوہ_ریزی_باد_و_بہ_پر_فشانی_شمع
نشاط_داغ_غم_عشق کی بہار نہ پوچھ شگفتگی ہے شہید_گل_خزانی_شمع
جلے ہے دیکھ کے بالین_یار پر مجھ کو نہ کیوں ہو دل پہ مرے داغ_بد_گمانی_شمع