Rone se aur ishq mein be-baak ho gaye
19th Century Mirza Ghalib Urduرونے سے اور عشق میں بے_باک ہو گئے دھوئے گئے ہم اتنے کہ بس پاک ہو گئے
صرف_بہائے_مے ہوئے آلات_مے_کشی تھے یہ ہی دو حساب سو یوں پاک ہو گئے
رسوائے_دہر گو ہوئے آوارگی سے تم بارے طبیعتوں کے تو چالاک ہو گئے
کہتا ہے کون نالۂ_بلبل کو بے_اثر پردے میں گل کے لاکھ جگر چاک ہو گئے
پوچھے ہے کیا وجود و عدم اہل_شوق کا آپ اپنی آگ کے خس_و_خاشاک ہو گئے
کرنے گئے تھے اس سے تغافل کا ہم گلہ کی ایک ہی نگاہ کہ بس خاک ہو گئے
اس رنگ سے اٹھائی کل اس نے اسدؔ کی نعش دشمن بھی جس کو دیکھ کے غم_ناک ہو گئے