Raundi hui hai kaukaba-e-shehryar ki
19th Century Mirza Ghalib Urduروندی ہوئی ہے کوکبۂ_شہریار کی اترائے کیوں نہ خاک سر_رہ_گزار کی
جب اس کے دیکھنے کے لیے آئیں بادشاہ لوگوں میں کیوں نمود نہ ہو لالہ_زار کی
بھوکے نہیں ہیں سیر_گلستاں کے ہم ولے کیونکر نہ کھائیے کہ ہوا ہے بہار کی