Mumkin nahin ke bhool ke bhi aarmeeda hoon
19th Century Mirza Ghalib Urduممکن نہیں کہ بھول کے بھی آرمیدہ ہوں میں دشت_غم میں آہوئے_صیاد_دیدہ ہوں
ہوں درد_مند جبر ہو یا اختیار ہو گہ نالۂ_کشیدہ گہ اشک_چشیدہ ہوں
نے سبحہ سے علاقہ نے ساغر سے واسطہ میں معرض_مثال میں دست_بریدہ ہوں
ہرگز کسی کے دل میں نہیں ہے مری جگہ یعنی کلام_نغز ولے ناشنیدہ ہوں
اہل_ورع کے حلقہ میں ہر_چند ہوں ذلیل پر عاصیوں کے زمرہ میں میں برگزیدہ ہوں
ہوں گرمی_نشاط_تصور سے نغمہ_سنج میں عندلیب_گلشن_نا_آفریدہ ہوں
میں چشم_وا_کشادہ اور گلشن نظر_فریب لیکن عبث کہ شبنم_خورشید_دیدہ ہوں
پانی سے سگ_گزیدہ ڈرے جس طرح اسدؔ ڈرتا ہوں آئینہ سے کہ مردم_گزیدہ ہوں