Koi din gar zindagani aur hai
19th Century Mirza Ghalib Urduکوئی دن گر زندگانی اور ہے اپنے جی میں ہم نے ٹھانی اور ہے
آتش_دوزخ میں یہ گرمی کہاں سوز_غم_ہائے_نہانی اور ہے
بارہا دیکھی ہیں ان کی رنجشیں پر کچھ اب کے سرگرانی اور ہے
دے کے خط منہ دیکھتا ہے نامہ_بر کچھ تو پیغام_زبانی اور ہے
قاطع_اعمار ہے اکثر نجوم وہ بلائے_آسمانی اور ہے
ہو چکیں غالبؔ بلائیں سب تمام ایک مرگ_ناگہانی اور ہے