Ajab nishaat se jallad ke chale hain hum aage
19th Century Mirza Ghalib Urduعجب نشاط سے جلاد کے چلے ہیں ہم آگے کہ اپنے سائے سے سر پانو سے ہے دو قدم آگے
قضا نے تھا مجھے چاہا خراب_بادۂ_الفت فقط خراب لکھا بس نہ چل سکا قلم آگے
غم_زمانہ نے جھاڑی نشاط_عشق کی مستی وگرنہ ہم بھی اٹھاتے تھے لذت_الم آگے
خدا کے واسطے داد اس جنون_شوق کی دینا کہ اس کے در پہ پہنچتے ہیں نامہ_بر سے ہم آگے
یہ عمر بھر جو پریشانیاں اٹھائی ہیں ہم نے تمہارے آئیو اے طرہ_ہاۓ_خم_بہ_خم آگے
دل و جگر میں پرافشاں جو ایک موجۂ_خوں ہے ہم اپنے زعم میں سمجھے ہوئے تھے اس کو دم آگے
قسم جنازے پہ آنے کی میرے کھاتے ہیں غالبؔ ہمیشہ کھاتے تھے جو میری جان کی قسم آگے