Aamad-e-sailaab-e-toofan-e-sada-e-aab hai
19th Century Mirza Ghalib Urduآمد_سیلاب_طوفان_صداۓ_آب ہے نقش_پا جو کان میں رکھتا ہے انگلی جادہ سے
بزم_مے وحشت_کدہ ہے کس کی چشم_مست کا شیشے میں نبض_پری پنہاں ہے موج_بادہ سے
دیکھتا ہوں وحشت_شوق_خروش_آمادہ سے فال_رسوائی سرشک_سر_بہ_صحرا_دادہ سے
دام گر سبزے میں پنہاں کیجیے طاؤس ہو جوش_نیرنگ_بہار عرض_صحرا_دادہ سے
خیمۂ_لیلےٰ سیاہ و خانۂ_مجنوں خراب جوش_ویرانی ہے عشق_داغ_بیروں_دادہ سے
بزم_ہستی وہ تماشا ہے کہ جس کو ہم اسدؔ دیکھتے ہیں چشم_از_خواب_عدم_نکشادہ سے