Aamad-e-khat se hua hai sard jo bazaar-e-dost
19th Century Mirza Ghalib Urduآمد_خط سے ہوا ہے سرد جو بازار_دوست دود_شمع_کشتہ تھا شاید خط_رخسار_دوست
اے دل_ناعاقبت_اندیش ضبط_شوق کر کون لا سکتا ہے تاب_جلوۂ_دیدار_دوست
خانہ_ویراں_سازی_حیرت تماشا کیجیے صورت_نقش_قدم ہوں رفتۂ_رفتار_دوست
عشق میں بیداد_رشک_غیر نے مارا مجھے کشتۂ_دشمن ہوں آخر گرچہ تھا بیمار_دوست
چشم_ما روشن کہ اس بے_درد کا دل شاد ہے دیدۂ_پر_خوں ہمارا ساغر_سرشار_دوست
غیر یوں کرتا ہے میری پرسش اس کے ہجر میں بے_تکلف دوست ہو جیسے کوئی غم_خوار_دوست
تاکہ میں جانوں کہ ہے اس کی رسائی واں تلک مجھ کو دیتا ہے پیام_وعدۂ_دیدار_دوست
جب کہ میں کرتا ہوں اپنا شکوۂ_ضعف_دماغ سر کرے ہے وہ حدیث_زلف_عنبر_بار_دوست
چپکے چپکے مجھ کو روتے دیکھ پاتا ہے اگر ہنس کے کرتا ہے بیان_شوخی_گفتار_دوست
مہربانی_ہائے_دشمن کی شکایت کیجیے تا بیاں کیجے سپاس_لذت_آزار_دوست
یہ غزل اپنی مجھے جی سے پسند آتی ہے آپ ہے ردیف_شعر میں غالبؔ ز_بس تکرار_دوست
چشم_بند_خلق جز تمثال_خود_بینی نہیں آئنہ ہے قالب_خشت_در_و_دیوار_دوست
برق_خرمن_زار گوہر ہے نگاہ_تیز یاں اشک ہو جاتے ہیں خشک از_گرمیٔ_رفتار_دوست
ہے سوا نیزے پہ اس کے قامت_نوخیز سے آفتاب_صبح_محشر ہے گل_دستار_دوست
اے عدوئے_مصلحت چند بہ_ضبط افسردہ رہ کردنی ہے جمع تاب_شوخیٔ_دیدار_دوست
لغزش_مستانہ و جوش_تماشا ہے اسدؔ آتش_مے سے بہار_گرمیٔ_بازار_دوست