Maah-e-Nau
20th Century Allama Iqbal Urdu══════════════════════════════════════════════════════════════════════ ماہ نو (Maah-e-Nau) ══════════════════════════════════════════════════════════════════════
Collection: Bang-e-Dara Part: part01
ٹوٹ کر خورشيد کي کشتي ہوئي غرقاب نيل ايک ٹکڑا تيرتا پھرتا ہے روئے آب نيل طشت گردوں ميں ٹپکتا ہے شفق کا خون ناب نشتر قدرت نے کيا کھولي ہے فصد آفتاب چرخ نے بالي چرا لي ہے عروس شام کي نيل کے پاني ميں يا مچھلي ہے سيم خام کي قافلہ تيرا رواں بے منت بانگ درا گوش انساں سن نہيں سکتا تري آواز پا گھٹنے بڑھنے کا سماں آنکھوں کو دکھلاتا ہے تو ہے وطن تيرا کدھر ، کس ديس کو جاتا ہے تو ساتھ اے سيارہء ثابت نما لے چل مجھے خار حسرت کي خلش رکھتي ہے اب بے کل مجھے نور کا طالب ہوں ، گھبراتا ہوں اس بستي ميں ميں طفلک سيماب پا ہوں مکتب ہستي ميں ميں
══════════════════════════════════════════════════════════════════════