Maa ka Khwab
20th Century Allama Iqbal Urdu══════════════════════════════════════════════════════════════════════ ماں کا خواب (Maa Ka Khwab) ══════════════════════════════════════════════════════════════════════
Collection: Bang-e-Dara Part: part01
ميں سوئي جو اک شب تو ديکھا يہ خواب بڑھا اور جس سے مرا اضطراب يہ ديکھا کہ ميں جا رہي ہوں کہيں اندھيرا ہے اور راہ ملتي نہيں لرزتا تھا ڈر سے مرا بال بال قدم کا تھا دہشت سے اٹھنا محال جو کچھ حوصلہ پا کے آگے بڑھي تو ديکھا قطار ايک لڑکوں کي تھي زمرد سي پوشاک پہنے ہوئے ديے سب کے ہاتھوں ميں جلتے ہوئے وہ چپ چاپ تھے آگے پيچھے رواں خدا جانے جانا تھا ان کو کہاں اسي سوچ ميں تھي کہ ميرا پسر مجھے اس جماعت ميں آيا نظر وہ پيچھے تھا اور تيز چلتا نہ تھا ديا اس کے ہاتھوں ميں جلتا نہ تھا کہا ميں نے پہچان کر ، ميري جاں ! مجھے چھوڑ کر آ گئے تم کہاں ! جدائي ميں رہتي ہوں ميں بے قرار پروتي ہوں ہر روز اشکوں کے ہار نہ پروا ہماري ذرا تم نے کي گئے چھوڑ ، اچھي وفا تم نے کي جو بچے نے ديکھا مرا پيچ و تاب ديا اس نے منہ پھير کر يوں جواب رلاتي ہے تجھ کو جدائي مري نہيں اس ميں کچھ بھي بھلائي مري يہ کہہ کر وہ کچھ دير تک چپ رہا ديا پھر دکھا کر يہ کہنے لگا سمجھتي ہے تو ہو گيا کيا اسے؟ ترے آنسوئوں نے بجھايا اسے
══════════════════════════════════════════════════════════════════════