Junoon ki dastgiri kis se ho gar ho na uryaani
19th Century Mirza Ghalib Urduجنوں کی دستگیری کس سے ہو گر ہو نہ عریانی گریباں_چاک کا حق ہو گیا ہے میری گردن پر
بہ_رنگ_کاغذ_آتش_زدہ نیرنگ_بیتابی ہزار آئینہ دل باندھے ہے بال_یک_تپیدن پر
فلک سے ہم کو عیش_رفتہ کا کیا کیا تقاضا ہے متاع_بردہ کو سمجھے ہوئے ہیں قرض رہزن پر
ہم اور وہ بے_سبب رنج_آشنا دشمن کہ رکھتا ہے شعاع_مہر سے تہمت نگہ کی چشم_روزن پر
فنا کو سونپ گر مشتاق ہے اپنی حقیقت کا فروغ_طالع_خاشاک ہے موقوف گلخن پر
اسدؔ بسمل ہے کس انداز کا قاتل سے کہتا ہے کہ مشق_ناز کر خون_دو_عالم میری گردن پر
فسون_یک_دلی ہے لذت_بیداد دشمن پر کہ وجد_برق جوں پروانہ بال_افشاں ہے خرمن پر
تکلف خار_خار_التماس_بے_قراری ہے کہ رشتہ باندھتا ہے پیرہن انگشت_سوزن پر
یہ کیا وحشت ہے اے دیوانہ پیش_از_مرگ واویلا رکھی بیجا بنائے_خانۂ_زنجیر_شیون پر