Bisaat-e-ijz mein tha ek dil, yak qatra-e-khoon, woh bhi
19th Century Mirza Ghalib Urduبساط_عجز میں تھا ایک دل یک قطرہ خوں وہ بھی سو رہتا ہے بہ_انداز_چکیدن سرنگوں وہ بھی
رہے اس شوخ سے آزردہ ہم چندے تکلف سے تکلف بر_طرف تھا ایک انداز_جنوں وہ بھی
خیال_مرگ کب تسکیں دل_آزردہ کو بخشے مرے دام_تمنا میں ہے اک صید_زبوں وہ بھی
نہ کرتا کاش نالہ مجھ کو کیا معلوم تھا ہمدم کہ ہوگا باعث_افزائش_درد_دروں وہ بھی
نہ اتنا برش_تیغ_جفا پر ناز فرماؤ مرے دریائے_بے_تابی میں ہے اک موج_خوں وہ بھی
مئے_عشرت کی خواہش ساقی_گردوں سے کیا کیجے لیے بیٹھا ہے اک دو چار جام_واژ_گوں وہ بھی
مرے دل میں ہے غالبؔ شوق_وصل و شکوۂ_ہجراں خدا وہ دن کرے جو اس سے میں یہ بھی کہوں وہ بھی
مجھے معلوم ہے جو تو نے میرے حق میں سوچا ہے کہیں ہو جائے جلد اے گردش_گردون_دوں وہ بھی
نظر راحت پہ میری کر نہ وعدہ شب کے آنے کا کہ میری خواب_بندی کے لیے ہوگا فسوں وہ بھی