Tapish se meri waqf-e-kashmakash har taar-e-bistar hai
19th Century Mirza Ghalib Urduتپش سے میری وقف_کشمکش ہر تار_بستر ہے مرا سر رنج_بالیں ہے مرا تن بار_بستر ہے
سرشک_سر بہ_صحرا دادہ نور_العین_دامن ہے دل_بے_دست_و_پا افتادہ بر_خوردار_بستر ہے
خوشا اقبال_رنجوری عیادت کو تم آئے ہو فروغ_شمع_بالیں طالع_بیدار_بستر ہے
بہ_طوفاں_گاہ_جوش_اضطراب_شام_تنہائی شعاع_آفتاب_صبح_محشر تار_بستر ہے
ابھی آتی ہے بو بالش سے اس کی زلف_مشکیں کی ہماری دید کو خواب_زلیخا عار_بستر ہے
کہوں کیا دل کی کیا حالت ہے ہجر_یار میں غالب کہ بیتابی سے ہر_یک تار_بستر خار_بستر ہے