Naala-e-dil mein shab andaaz-e-asar naayaab tha
19th Century Mirza Ghalib Urduنالۂ_دل میں شب انداز_اثر نایاب تھا تھا سپند_بزم_وصل_غیر گو بیتاب تھا
دیکھتے تھے ہم بہ_چشم_خود وہ طوفان_بلا آسمان_سفلہ جس میں یک_کف_سیلاب تھا
موج سے پیدا ہوئے پیراہن_دریا میں خار گریۂ_وحشت_بیقرار_جلوۂ_مہتاب تھا
جوش_تکلیف تماشا محشر_آباد نگاہ فتنۂ_خوابیدہ کو آئینہ مشت_آب تھا
بے_خبر مت کہہ ہمیں بے_درد خود_بینی سے پوچھ قلزم_ذوق_نظر میں آئنہ پایاب تھا
بے_دلی ہائے اسد افسردگی آہنگ_تر یاد_ایام کہ ذوق_صحبت_احباب تھا
مقدم_سیلاب سے دل کیا نشاط_آہنگ ہے خانۂ_عاشق مگر ساز_صداۓ_آب تھا
نازش_ایام_خاکستر_نشینی کیا کہوں پہلوئے_اندیشہ وقف_بستر_سنجاب تھا
کچھ نہ کی اپنی جنون_نا_رسا نے ورنہ یاں ذرہ ذرہ رو_کش_خورشید_عالم_تاب تھا
آج کیوں پروا نہیں اپنے اسیروں کی تجھے کل تلک تیرا بھی دل مہر و وفا کا باب تھا
یاد کر وہ دن کہ ہر یک حلقہ تیرے دام کا انتظار_صید میں اک دیدۂ_بے_خواب تھا
میں نے روکا رات غالبؔ کو وگرنہ دیکھتے اس کے سیل_گریہ میں گردوں کف_سیلاب تھا