Aashiq Harjaai
20th Century Allama Iqbal Urdu══════════════════════════════════════════════════════════════════════ عاشق ہر جائي (Aashiq-e-Har-Jayi) ══════════════════════════════════════════════════════════════════════
Collection: Bang-e-Dara Part: part02
ہے عجب مجموعہء اضداد اے اقبال تو رونق ہنگامہء محفل بھي ہے، تنہا بھي ہے تيرے ہنگاموں سے اے ديوانہ رنگيں نوا ! زينت گلشن بھي ہے ، آرائش صحرا بھي ہے ہم نشيں تاروں کا ہے تو رفعت پرواز سے اے زميں فرسا ، قدم تيرا فلک پيما بھي ہے عين شغل ميں پيشاني ہے تيري سجدہ ريز کچھ ترے مسلک ميں رنگ مشرب مينا بھي ہے مثل بوئے گل لباس رنگ سے عرياں ہے تو ہے تو حکمت آفريں ، ليکن تجھے سودا بھي ہے جانب منزل رواں بے نقش پا مانند موج اور پھر افتادہ مثل ساحل دريا بھي ہے حسن نسواني ہے بجلي تيري فطرت کے ليے پھر عجب يہ ہے کہ تيرا عشق بے پروا بھي ہے تيري ہستي کا ہے آئين تفنن پر مدار تو کبھي ايک آستانے پر جبيں فرسا بھي ہے ؟ ہے حسينوں ميں وفا نا آشنا تيرا خطاب اے تلون کيش! تو مشہور بھي ، رسوا بھي ہے لے کے آيا ہے جہاں ميں عادت سيماب تو تيري بے تابي کے صدقے، ہے عجب بے تاب تو
══════════════════════════════════════════════════════════════════════