Saqaliya
20th Century Allama Iqbal Urdu══════════════════════════════════════════════════════════════════════ صقليہ (Saqaliya) ══════════════════════════════════════════════════════════════════════
Collection: Bang-e-Dara Part: part02
رو لے اب دل کھول کر اے ديدہء خوننابہ بار وہ نظر آتا ہے تہذيب حجازي کا مزار تھا يہاں ہنگامہ ان صحرا نشينوں کا کبھي بحر بازي گاہ تھا جن کے سفينوں کا کبھي زلزلے جن سے شہنشاہوں کے درباروں ميں تھے بجليوں کے آشيانے جن کي تلواروں ميں تھے اک جہان تازہ کا پيغام تھا جن کا ظہور کھا گئي عصر کہن کو جن کي تيغ ناصبور مردہ عالم زندہ جن کي شورش قم سے ہوا آدمي آزاد زنجير توہم سے ہوا غلغلوں سے جس کے لذت گير اب تک گوش ہے کيا وہ تکبير اب ہميشہ کے ليے خاموش ہے؟ آہ اے سسلي! سمندرکي ہے تجھ سے آبرو رہنما کي طرح اس پاني کے صحرا ميں ہے تو زيب تيرے خال سے رخسار دريا کو رہے تيري شمعوں سے تسلي بحر پيما کو رہے ہو سبک چشم مسافر پر ترا منظر مدام موج رقصاں تيرے ساحل کي چٹانوں پر مدام تو کبھي اس قوم کي تہذيب کا گہوارہ تھا حسن عالم سوز جس کا آتش نظارہ تھا نالہ کش شيراز کا بلبل ہوا بغداد پر داغ رويا خون کے آنسو جہاں آباد پر آسماں نے دولت غرناطہ جب برباد کي ابن بدروں کے دل ناشاد نے فرياد کي غم نصيب اقبال کو بخشا گيا ماتم ترا چن ليا تقدير نے وہ دل کہ تھا محرم ترا ہے ترے آثار ميں پوشيدہ کس کي داستاں تيرے ساحل کي خموشي ميں ہے انداز بياں درد اپنا مجھ سے کہہ ، ميں بھي سراپا درد ہوں جس کي تو منزل تھا ، ميں اس کارواں کي گرد ہوں رنگ تصوير کہن ميں بھر کے دکھلا دے مجھے قصہ ايام سلف کا کہہ کے تڑپا دے مجھے ميں ترا تحفہ سوئے ہندوستاں لے جاؤں گا خود يہاں روتا ہوں ، اوروں کو وہاں رلوائوں گا
══════════════════════════════════════════════════════════════════════