Muhabbat
20th Century Allama Iqbal Urdu══════════════════════════════════════════════════════════════════════ محبت (Muhabbat) ══════════════════════════════════════════════════════════════════════
Collection: Bang-e-Dara Part: part02
عروس شب کي زلفيں تھيں ابھي نا آشنا خم سے ستارے آسماں کے بے خبر تھے لذت رم سے قمر اپنے لباس نو ميں بيگانہ سا لگتا تھا نہ تھا واقف ابھي گردش کے آئين مسلم سے ابھي امکاں کے ظلمت خانے سے ابھري ہي تھي دنيا مذاق زندگي پوشيدہ تھا پہنائے عالم سے کمال نظم ہستي کي ابھي تھي ابتدا گويا ہويدا تھي نگينے کي تمنا چشم خاتم سے سنا ہے عالم بالا ميں کوئي کيمياگر تھا صفا تھي جس کي خاک پا ميں بڑھ کر ساغر جم سے لکھا تھا عرش کے پائے پہ اک اکسير کا نسخہ چھپاتے تھے فرشتے جس کو چشم روح آدم سے نگاہيں تاک ميں رہتي تھيں ليکن کيمياگر کي وہ اس نسخے کو بڑھ کر جانتا تھا اسم اعظم سے بڑھا تسبيح خواني کے بہانے عرش کي جانب تمنائے دلي آخر بر آئي سعي پيہم سے پھرايا فکر اجزا نے اسے ميدان امکاں ميں چھپے گي کيا کوئي شے بارگاہ حق کے محرم سے چمک تارے سے مانگي ، چاند سے داغ جگر مانگا اڑائي تيرگي تھوڑي سي شب کي زلف برہم سے تڑپ بجلي سے پائي ، حور سے پاکيزگي پائي حرارت لي نفسہائے مسيح ابن مريم سے ذرا سي پھر ربوبيت سے شان بے نيازي لي ملک سے عاجزي ، افتادگي تقدير شبنم سے پھر ان اجزا کو گھولا چشمہء حيواں کے پاني ميں مرکب نے محبت نام پايا عرش اعظم سے مہوس نے يہ پاني ہستي نوخيز پر چھڑکا گرہ کھولي ہنر نے اس کے گويا کار عالم سے ہوئي جنبش عياں ، ذروں نے لطف خواب کو چھوڑا گلے ملنے لگے اٹھ اٹھ کے اپنے اپنے ہمدم سے خرام ناز پايا آفتابوں نے ، ستاروں نے چٹک غنچوں نے پائي ، داغ پائے لالہ زاروں نے
══════════════════════════════════════════════════════════════════════