Haqeeqat-e-Husn
20th Century Allama Iqbal Urdu══════════════════════════════════════════════════════════════════════ حقيقت حسن (Haqeeqat-e-Husn) ══════════════════════════════════════════════════════════════════════
Collection: Bang-e-Dara Part: part02
خدا سے حسن نے اک روز يہ سوال کيا جہاں ميں کيوں نہ مجھے تو نے لازوال کيا ملا جواب کہ تصوير خانہ ہے دنيا شب دراز عدم کا فسانہ ہے دنيا ہوئي ہے رنگ تغير سے جب نمود اس کي وہي حسيں ہے حقيقت زوال ہے جس کي کہيں قريب تھا ، يہ گفتگو قمر نے سني فلک پہ عام ہوئي ، اختر سحر نے سني سحر نے تارے سے سن کر سنائي شبنم کو فلک کي بات بتا دي زميں کے محرم کو بھر آئے پھول کے آنسو پيام شبنم سے کلي کا ننھا سا دل خون ہو گيا غم سے چمن سے روتا ہوا موسم بہار گيا شباب سير کو آيا تھا ، سوگوار گيا
══════════════════════════════════════════════════════════════════════