Hindustani Bachon Ka Qaumi Geet
20th Century Allama Iqbal Urdu══════════════════════════════════════════════════════════════════════ ہندوستاني بچوں کا قومي گيت (Hindustani Bachon Ka Qaumi Geet) ══════════════════════════════════════════════════════════════════════
Collection: Bang-e-Dara Part: part01
چشتي نے جس زميں ميں پيغام حق سنايا نانک نے جس چمن ميں وحدت کا گيت گايا تاتاريوں نے جس کو اپنا وطن بنايا جس نے حجازيوں سے دشت عرب چھڑايا ميرا وطن وہي ہے ، ميرا وطن وہي ہے يونانيوں کو جس نے حيران کر ديا تھا سارے جہاں کو جس نے علم و ہنر ديا تھا مٹي کو جس کي حق نے زر کا اثر ديا تھا ترکوں کا جس نے دامن ہيروں سے بھر ديا تھا ميرا وطن وہي ہے، ميرا وطن وہي ہے ٹوٹے تھے جو ستارے فارس کے آسماں سے پھر تاب دے کے جس نے چمکائے کہکشاں سے وحدت کي لے سني تھي دنيا نے جس مکاں سے مير عرب کو آئي ٹھنڈي ہوا جہاں سے ميرا وطن وہي ہے، ميرا وطن وہي ہے بندے کليم جس کے ، پربت جہاں کے سينا نوح نبي کا آ کر ٹھہرا جہاں سفينا رفعت ہے جس زميں کي بام فلک کا زينا جنت کي زندگي ہے جس کي فضا ميں جينا ميرا وطن وہي ہے، ميرا وطن وہي ہے
══════════════════════════════════════════════════════════════════════