Zahir ki aankh se na tamasha kare koi
20th Century Allama Iqbal Urdu══════════════════════════════════════════════════════════════════════ ظاہر کي آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئي () ══════════════════════════════════════════════════════════════════════
Collection: Bang-e-Dara Part: part01
ظاہر کي آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئي ہو ديکھنا تو ديدہء دل وا کرے کوئي منصور کو ہوا لب گويا پيام موت اب کيا کسي کے عشق کا دعوي کرے کوئي ہو ديد کا جو شوق تو آنکھوں کو بند کر ہے ديکھنا يہي کہ نہ ديکھا کرے کوئي ميں انتہائے عشق ہوں ، تو انتہائے حسن ديکھے مجھے کہ تجھ کو تماشا کرے کوئي عذر آفرين جرم محبت ہے حسن دوست محشر ميں عذر تازہ نہ پيدا کرے کوئي چھپتي نہيں ہے يہ نگہ شوق ہم نشيں ! پھر اور کس طرح انھيں ديکھا کر ے کوئي اڑ بيٹھے کيا سمجھ کے بھلا طور پر کليم طاقت ہو ديد کي تو تقاضا کرے کوئي نظارے کو يہ جنبش مژگاں بھي بار ہے نرگس کي آنکھ سے تجھے ديکھا کرے کوئي کھل جائيں ، کيا مزے ہيں تمنائے شوق ميں دو چار دن جو ميري تمنا کرے کوئي
══════════════════════════════════════════════════════════════════════